نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ فیض رسول فیضان

ایسی لگن سے ذکرِمدینہ کرے کوئی
گھر بیٹھے دیدِگنبدِخضریٰ کرے کوئی

پھر ہر مرض کا شوق سے چارہ کرے کوئی
پہلے درود، ورد وظیفہ کرے کوئی

دشوار تو نہیں ہے نکیرین کا جواب
خیر الورا کا پیش حوالہ کرے کوئی

لے جائے اپنے ساتھ محبت حضور کی
یوں ظلمتِ لحد میں اُجالا کرے کوئی

بادِ سحر کے ہاتھ فغانِ سحر گہی
دربارِ مصطفی کو روانہ کرے کوئی

جزوِ دُعا بنا کے درود و سلام کو
بگڑے معاملات سنوارا کرے کوئی

قرب و رضائے ذاتِ الٰہی کے واسطے
نامِ نبی پہ جان کو وارا کرے کوئی
عشقِ رسول کے ہیں تقاضے بڑے کٹھن
پہلے عمل ہو بعد میں دعویٰ کرے کوئی

رہبر بنا کے اُسوۂ خیر الانام کو
منزل کا اپنے دل میں نظارہ کرے کوئی

سرکار ہر غلام کی سنتے ہیں زاریاں
جب بھی جہاں بھی اُن کو پکارا کرے کوئی

فیضاؔن! رنگ، شانِ کریمی دکھائے گی
جذبے میں کچھ خلوص تو پیدا کرے کوئی

Related posts

Leave a Comment